وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر نے اعلان کیا ہے کہ طویل اور جامع مشاورت کے بعد برآمدات پر مبنی نئی آٹو پالیسی کی تیاری میں بہت محنت کی گئی ہے اور حکومت کی اس حکمتِ عملی سے گاڑیوں کی تیاری کے اخراجات میں کمی آئے گی جس سے لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سمیت تمام طبقات کے لیے گاڑیاں سستی ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق گاڑیوں کی قیمتیں مناسب اور عوام کی پہنچ میں ہونی چاہئیں۔ اسی تسلسل میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی جاری رہے گی۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اہم فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ اب کوئی بھی مینوفیکچرر خریدار سے 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس رقم وصول نہیں کر سکے گا۔
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں سے آٹو پالیسی تو بن رہی تھی لیکن ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ اسی لیے نئی پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کو بنیادی ترجیح قرار دیا گیا ہے اور حکومت گاڑیاں برآمد کرنے والوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ آٹو سیکٹر میں برآمدات کا حجم موجودہ 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 6 ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔
ہارون اختر نے مزید بتایا کہ گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 45 اضافی معیار (اسٹینڈرڈز) شامل کیے گئے ہیں تاکہ مقامی سطح پر معیاری اور محفوظ گاڑیوں کی تیاری ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے بڑی صنعتوں کی پیش رفت اور آٹو انڈسٹری کا لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) میں انتہائی اہم کردار ہے، اسی لیے وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف پالیسی کا قیام بھی عمل میں لایا ہے تاکہ آٹو انڈسٹری میں صحت مند مسابقت بڑھے اور پیداوار کو فروغ ملے۔
علاقائی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے باعث الیکٹرک وہیکلز (EVs) کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ خریداروں کی سہولت اور الیکٹرک گاڑیوں کو عام کرنے کے لیے فنانسنگ کی حد کو 20 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

