سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے جدہ میں پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور علاقائی و عالمی ترقیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ تعاون کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور اقتصادی، دفاعی اور سفارتی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور انہیں وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا۔ سعودی ولی عہد نے پاکستان کی ترقی کے عمل اور سعودی عرب و پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو سراہا۔
بات چیت کے دوران خاص طور پر خطے میں جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ناگزیر ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ابتدائی دور بھی منعقد ہو چکا ہے اور آئندہ مراحل پر بات چیت جاری ہے۔
سعودی اور پاکستانی قیادت نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی بہترین راستہ ہیں، جبکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافہ خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سعودی ولی عہد نے اس موقع پر پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہا جو خطے میں امن کے لیے جاری ہیں۔
اجلاس میں سعودی وفد کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور دیگر اعلیٰ حکام نے کی، جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کیا جائے گا، جو نہ صرف باہمی مفاد بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔
