ایران کا پیغام: امریکا کو اپنی غیر معقول شرائط ترک کرنا ہوں گی، شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے دفاعی تعاون بڑھانے کا اعلان

Iranian Deputy Defense Minister Reza Talainik

کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر ایران نے ایک بار پھر امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آکر فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کو اپنی "غیر قانونی اور غیر معقول شرائط” فوری طور پر ترک کرنا ہوں گی کیونکہ اب واشنگٹن دیگر ممالک پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نیک نے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اب یکطرفہ دباؤ کی سیاست زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خودمختار خارجہ اور دفاعی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی نائب وزیر دفاع نے اس موقع پر ایک اہم پیشکش بھی کی، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران آزاد اور خودمختار ممالک، بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان خطے میں بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور ممکنہ بلاک سیاست کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر Donald Trump کو ایران کے خلاف جاری ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے یکم مئی کی اہم ڈیڈ لائن کا سامنا ہے۔ امریکی قانون War Powers Act کے تحت صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر 60 دن سے زائد فوجی کارروائی جاری نہیں رکھ سکتے، جس کے باعث واشنگٹن کو جلد اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو "معاشی ایٹمی ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر اسے جوہری ہتھیار حاصل ہو گیا تو صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے