امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع سے اس وقت تک باہر نہیں نکلے گا جب تک اپنے اہداف حاصل نہیں کر لیتا۔
فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اس مرحلے پر پیچھے ہٹ گیا تو مسئلہ چند سال بعد دوبارہ جنم لے سکتا ہے، اس لیے جنگ کا خاتمہ جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر ایران کو نہ روکا جاتا تو اسرائیل اور یورپ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ اعلیٰ قیادت کے خاتمے کا بھی ذکر کیا، اگرچہ اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی گفتگو اس وقت تک نہیں کرنا چاہتے جب تک کارروائی مکمل نہ ہو جائے، اور یہ کہ ماضی کے امریکی صدور کو یہ اقدامات پہلے ہی کر لینے چاہیے تھے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اس وقت تقریباً 400 تیل بردار بحری جہاز موجود ہیں، اور اگر یہ راستہ کھل جائے تو عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا جلد بازی میں تنازع ختم نہیں کرے گا تاکہ مستقبل میں دوبارہ کسی بڑے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
