مغربی بنگال میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی تاریخی انتخابی کامیابی کے بعد سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر گئی، جبکہ مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہو گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی نے پہلی بار مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 206 نشستیں جیت لیں۔ تقریباً 10 کروڑ آبادی والی اس اہم ریاست کے انتخابی نتائج منگل کو جاری کیے گئے۔
آل انڈیا ترنمول کانگریس گزشتہ 2011 سے ریاست میں برسراقتدار تھی، تاہم وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت کو اس مرتبہ بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق ممتا بنرجی اپنی نشست بھی برقرار نہ رکھ سکیں۔
ممتا بنرجی نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کی کامیابی کو “غیر اخلاقی فتح” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 100 سے زائد نشستیں مبینہ طور پر “لوٹی” گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق نتائج کے اعلان کے بعد کولکتہ سمیت مختلف اضلاع میں سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کے 2 کارکن مارے گئے، جبکہ ٹی ایم سی نے بھی اپنے 2 کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
بی جے پی کے ریاستی رہنما سمک بھٹاچاریہ کے مطابق انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ان کی جماعت کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ٹی ایم سی کے ترجمان نریندرناتھ چکرورتی نے الزام لگایا کہ ریاست بھر میں ان کی جماعت کے دفاتر پر حملے کیے گئے۔
