شمالی کوریا کا ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے میں شامل ہونے سے انکار

North Korea refuses to join nuclear non-proliferation treaty, accuses US of environmental destruction

شمالی کوریا نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا حصہ نہیں بنے گا اور خود کو ایک مستقل ایٹمی طاقت سمجھتا ہے۔ شمالی کوریا کے اس مؤقف نے عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مستقل مندوب Kim Song نے کہا ہے کہ پیانگ یانگ کسی بھی ایسے معاہدے کا پابند نہیں جو اس کے دفاعی مفادات کو محدود کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور بعض اتحادی ممالک این پی ٹی ریویو کانفرنس کے ماحول کو دانستہ طور پر خراب کر رہے ہیں۔

یہ بیان United Nations کے صدر دفتر میں جاری این پی ٹی ریویو کانفرنس کے دوران سامنے آیا، جہاں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ کم سونگ نے زور دے کر کہا کہ شمالی کوریا کی ایٹمی حیثیت ناقابلِ تبدیل ہے اور کسی ملک کے دباؤ یا مطالبے سے اس پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کی ہے اور یہ اس کی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکا کی فوجی سرگرمیاں اور مشترکہ مشقیں پیانگ یانگ کے لیے خطرہ تصور کی جاتی ہیں، اسی لیے ملک اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

شمالی کوریا کے اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیانگ یانگ کا سخت مؤقف مشرقی ایشیا میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جہاں پہلے ہی امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ Israel بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے، تاہم شمالی کوریا کے برعکس اسرائیل پر اس معاملے میں عالمی دباؤ نسبتاً کم دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب Iran این پی ٹی کا رکن ہونے کے باوجود مسلسل بین الاقوامی نگرانی اور دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے حالیہ بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ پیانگ یانگ مستقبل قریب میں اپنے ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں، جس سے عالمی سفارتی کوششوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے