ایران نے آبنائے ہرمز کے حساس سمندری راستے کے حوالے سے فرانس اور برطانیہ کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں کسی بھی فوجی یا آپریشنل مداخلت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی اور برطانوی جنگی جہازوں کی موجودگی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق سمندری راستوں کا تحفظ طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور باہمی احترام سے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف خودمختاری اور قانونی انتظامات طے کرنا ایران کا حق ہے، اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر ماجد موسوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون نظام خطے میں امریکی اور دیگر “جارح” اہداف کے خلاف مکمل طور پر تیار ہیں۔
ان کے مطابق “تمام اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فعال ہے اور افواج صرف اعلیٰ سطحی حکم کی منتظر ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت اور فوری ردعمل دیا جائے گا اور ایران اپنے دفاع اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمی نیا نے بھی خبردار کیا کہ جو ممالک امریکا کی پابندیوں پر عمل درآمد کریں گے، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ ممکنہ اہداف کی فہرست کو بھی اپ ڈیٹ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن اپنے مقاصد میں ناکام رہا اور بالآخر اسے جنگ بندی پر آمادہ ہونا پڑا، جبکہ ایران نے اس دوران اپنی فوجی تیاریوں کو مزید بہتر بنایا ہے۔
