تیزاب گردی پر خلیل الرحمان قمر کے ریمارکس متنازع، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا

لاہور: پنجاب اسمبلی کی رکن اور خواتین تحفظ اتھارٹی کی چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کے تیزاب گردی سے متعلق حالیہ ریمارکس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

حنا پرویز بٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ تیزاب گردی کے متاثرین صرف جسمانی زخم ہی نہیں بلکہ عمر بھر ذہنی، نفسیاتی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سنگین جرم کو ہلکے انداز میں پیش کرنا نہ صرف متاثرین کے دکھ کو کم تر ظاہر کرتا ہے بلکہ انصاف کے حصول کی جدوجہد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ تنازع ایک ٹی وی پروگرام کے دوران سامنے آیا جہاں خواتین کے حقوق اور تیزاب گردی جیسے مسائل پر گفتگو ہو رہی تھی۔ اس دوران خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے جیسے مرد اپنی جیبوں میں تیزاب کی بوتلیں لے کر گھومتے ہیں۔‘‘ اس بیان پر پروگرام میں موجود حنا پرویز بٹ نے فوری اعتراض کیا جبکہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی اپنا مؤقف دہرایا۔

اپنے سوشل میڈیا پیغام میں حنا پرویز بٹ نے کہا کہ اس قسم کے تبصرے معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کو معمولی یا غیر اہم ظاہر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے مسائل کو طنز یا عمومی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے ان کے درد اور مشکلات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید زیر بحث آیا جب حال ہی میں کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے واقعے نے عوامی توجہ حاصل کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں زیادہ احتیاط اور حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر بھی خلیل الرحمان قمر کے بیان پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین نے بیان کو غیر مناسب قرار دیا جبکہ بعض نے اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا۔ تاہم خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم حلقوں کا مؤقف ہے کہ تیزاب گردی جیسے جرائم پر گفتگو کرتے وقت متاثرین کے احساسات اور مسئلے کی سنگینی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ تیزاب گردی جیسے جرائم محض بحث یا نظریاتی اختلاف کا موضوع نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی، سخت عمل درآمد اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے