ترسیلات زر میں اضافے سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوگیا

درآمدات میں کمی اور ترسیلات زرمیں اضافے سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی میں پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ 45 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، اپریل میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 27 کروڑ60لاکھ ڈالرخسارے میں تھا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل سے قبل ملکی کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل تین ماہ سرپلس رہا تھا۔ رواں مالی سال کے11ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ 25کروڑ50لاکھ ڈالرسرپلس رہا۔ معاشی ماہرین کے مطابق درآمدات میں کمی اور ترسیلات زرمیں اضافے سے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا۔

پاکستان نے مئی میں 5.6 ارب ڈالرکا مال دنیا سےخریدا جبکہ دنیا کو 2.3 ارب ڈالر کا مال بیچا۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 11 مہینوں میں ایکسپورٹس 29.75 ارب ڈالر رہیں، مئی کی ریکارڈ 4.2 ارب ڈالر کی ورکرز ترسیلات بہتری کا سبب ہے، 11 مہینوں کی ورکرز ترسیلات 38 ارب ڈالر رہیں۔

واضح رہے کہ مئی 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 4 ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات وطن بھیجیں، جو کسی بھی ایک مہینے میں موصول ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مئی میں ترسیلات زر میں ماہانہ بنیادوں پر 20.2 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 15.4 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے 11 مہینوں کے مجموعی حجم پر نظر ڈالی جائے تو اس میں 9.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد 11 ماہ کے دوران مجموعی ترسیلات زر 38 ارب 10 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 34.9 ارب ڈالر تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے