ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں طے شدہ شرائط پر مکمل عملدرآمد ہونے تک ایران کسی نئے مذاکراتی مرحلے میں شامل نہیں ہوگا۔
ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ اس وقت جاری سفارتی ملاقاتوں کا مقصد نئے معاہدے کرنا نہیں بلکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی انتظامات کے تحت لبنان، ایران، امریکا اور لبنان کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی اور متعلقہ امور کی نگرانی کرنا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی اضافی لاگت کے بحری آمدورفت کی اجازت صرف 60 دن کے لیے دی گئی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے خودمختار حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
باقر قالیباف کے مطابق مستقبل میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت انہی ضوابط اور انتظامات کے تحت ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
