ہیلتھ سروسز اکیڈمی: بلوچستان کے 150ہیلتھ پروفیشنلز کے پہلے بیچ کی 12 ہفتوں پر مشتمل جدید تربیتی پروگرام مکمل 

ہیلتھ سروسز اکیڈمی: بلوچستان کے 150ہیلتھ پروفیشنلز کے پہلے بیچ کی 12 ہفتوں پر مشتمل جدید تربیتی پروگرام مکمل

اسلام آباد: ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے زیرِ اہتمام بلوچستان کے 150 پیرامیڈیکس اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے منعقدہ 12 ہفتوں پر مشتمل صلاحیتوں میں اضافے کا تربیتی پروگرام مکمل ہو گیا۔ اس جامع تربیتی پروگرام کا مقصد بلوچستان کے مختلف اضلاع کے ہسپتالوں میں ہنگامی طبی امداد، انتہائی نگہداشت اور فرنٹ لائن ہیلتھ سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی تھے، جبکہ صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ، وزیر صحت گلگت بلتستان اقبال حسن، وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی، پراجیکٹ ڈائریکٹر ندیم سجاد کیانی اور فیکلٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر ندیم سجاد کیانی نے پروگرام کے خدوخال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 150 ہیلتھ پروفیشنلز نامزد کیے گئے تھے جن میں سے بلوچستان کے 21 سے زائد اضلاع سے تعلق رکھنے والے 92 پروفیشنلز نے کامیابی کے ساتھ 12 ہفتوں کی عملی و نظریاتی تربیت مکمل کی، جن میں 78 مرد اور 14 خواتین شامل ہیں۔ تربیت حاصل کرنے والوں میں ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز، سٹاف نرسز، ڈسپنسرز، اینستھیزیا و میڈیکل ٹیکنیشنز اور دیگر شعبوں کا عملہ شامل تھا۔ شرکاء کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو)، نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت (این آئی سی یو)، اینستھیزیا، ایمرجنسی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ہنگامی صحت کے شعبوں میں خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔ اس اقدام کے تحت ٹراما سینٹر کوئٹہ کے 50 ملازمین کے لیے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) میں 14 روزہ خصوصی عملی تربیت بھی شامل تھی۔

پروگرام کے دوران شرکاء کو سات بنیادی شعبوں بشمول طبی معلومات، کلینیکل مہارت، پیشہ ورانہ رویہ، ابلاغ، بین الشعبہ جاتی تعاون، شواہد پر مبنی پریکٹس، ڈیجیٹل ہیلتھ اور مریضوں کے تحفظ پر تفصیلی تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ شرکاء نے چھ خصوصی ایمرجنسی رسپانس کورسز بھی مکمل کیے جن میں بنیادی لائف سپورٹ (بی ایل ایس)، ایڈوانسڈ کارڈیک لائف سپورٹ (اے سی ایل ایس)، ٹراما مینجمنٹ، منیمم انیشل سروس پیکیج (ایم آئی ایس پی)، صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور اکیڈمی کا خصوصی ‘شیلڈ’ کورس سمولیشن اور ہسپتال ٹریننگ کے ساتھ شامل ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کی سہولیات کی بہتری ایک قومی فریضہ ہے اور ایسی عملی تربیت سے صوبے کے پسماندہ علاقوں کے ہسپتالوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے ہیلتھ سسٹم ریفارمز میں اس تربیت کو کلیدی قرار دیا۔ وزیر صحت گلگت بلتستان اقبال حسن نے تربیتی ماڈل کو بے حد سراہتے ہوئے درخواست کی کہ گلگت بلتستان کے ہیلتھ ورکرز کے لیے بھی اسی طرز کا تربیتی پروگرام شروع کیا جائے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بلوچستان کے طبی عملے کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر تربیت مکمل کرنے والے تمام150 ہیلتھ پروفیشنلز میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے