ایران میں فسادیوں کو فی کس چھ ہزار ڈالر تک دیے گئے، وزیرِ دفاع
تہران – ایران کے وزیرِ دفاع عزیز نصیرزادہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں حالیہ پرتشدد ہنگاموں کے پیچھے بیرونی عناصر کی منظم سازش کارفرما ہے، جس کے تحت فسادیوں کو چھ ہزار امریکی ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی گئی اور پرامن احتجاج کو جان بوجھ کر تشدد میں تبدیل کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ملک میں ہونے والے ہنگاموں میں دہشت گرد گروہوں نے منظم طریقے سے شراب اور نشہ آور اشیا پھیلا کر انتشار کو ہوا دی۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر پرامن نوعیت کے مظاہروں کو مالی وسائل اور منفی عناصر کے ذریعے تشدد کی طرف دھکیلا گیا۔
عزیز نصیرزادہ نے الزام عائد کیا کہ پرامن احتجاج کو پرتشدد ہنگاموں میں بدلنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مالی مدد فراہم کی گئی، جبکہ اس پورے منصوبے کا مقصد ایران کے داخلی استحکام کو نقصان پہنچانا اور ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کے تحت فسادیوں کو فی کس چھ ہزار ڈالر تک دیے گئے، تاہم ایرانی سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ایرانی وزیرِ دفاع کے مطابق ہنگاموں میں حصہ لینے والوں کے لیے باقاعدہ “قتل اور نقصان کے نرخ” بھی مقرر کیے گئے تھے، جن میں
-
ہر قتل کے بدلے تقریباً 3,300 امریکی ڈالر،
-
ہر گاڑی جلانے پر تقریباً 1,300 ڈالر،
-
اور پولیس اسٹیشن کو نذرِ آتش کرنے پر تقریباً 530 ڈالر طے کیے گئے تھے۔
عزیز نصیرزادہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور سیکیورٹی ادارے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گے۔