برازیل نے دفاعی ہوا بازی کی دنیا میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی تاریخ میں پہلی بار ملک کے اندر تیار کردہ سپرسانک لڑاکا طیارے کی رونمائی کر دی ہے۔ یہ اہم پیش رفت برازیل کے شہر گاویاو پیکسوٹو میں منعقدہ تقریب میں دکھائی گئی، جس میں اس جدید لڑاکا طیارے کو عوام اور حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔
یہ نیا طیارہ گریپن ماڈل کا ہے اور پہلی بار مکمل طور پر برازیل میں اسمبل کیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ برازیل لاطینی امریکہ کا پہلا ملک بن گیا جو سپرسانک لڑاکا طیارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برازیل نے سن 2014 میں سویڈن کی دفاعی کمپنی ‘صاب’ کے ساتھ گریپن طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد ملک کے پرانے لڑاکا طیاروں کے بیڑے کو جدید بنانا تھا۔ اس معاہدے کے تحت برازیل نے امریکی ایف-18 سپر ہارنیٹ اور فرانس کے رافیل طیاروں کے بجائے سویڈن کے گریپن کا انتخاب کیا۔
اس نئی کامیابی کے بعد برازیل ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو جدید ترین جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں امریکا، فرانس، روس، بھارت اور چین شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم برازیل کی دفاعی صنعت اور تکنیکی خودمختاری کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور ملکی فضائی دفاع کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
