وسطی امریکی ملک El Salvador میں حکومت نے ایک نیا سخت قانون نافذ کر دیا ہے جس کے تحت 12 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو بھی سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر عمر قید کی سزا دی جا سکے گی۔ یہ قانون 26 اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام صدر Nayib Bukele کی سخت گیر پالیسیوں کا حصہ ہے، جن کا بنیادی مقصد ملک میں گینگ جرائم کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی ہے۔ نئے قانون کے تحت قتل، دہشت گردی اور زیادتی جیسے سنگین جرائم میں ملوث کم عمر افراد کو بھی بالغ مجرموں کے برابر سزائیں دی جا سکیں گی۔
واضح رہے کہ El Salvador میں مارچ 2022ء سے ہنگامی حالت نافذ ہے، جس کے تحت متعدد شہری آزادیوں کو معطل کر دیا گیا ہے اور پولیس و فوج کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ اس دوران اب تک 90 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملک کی تقریباً 1.9 فیصد آبادی جیلوں میں قید ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے 2023ء میں اجتماعی مقدمات (ماس ٹرائلز) کی بھی اجازت دی تھی، جس کے تحت ایک وقت میں 900 افراد تک کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، جسے ناقدین نے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر اس قانون پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے UNICEF سمیت کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کم عمر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی اور عدالتی نظام پر منفی اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
