پاکستان نے کلائیمٹ خوشحالی پلان جاری کردیا ، مجوزہ توانائی اورماحولیاتی اہداف مقرر کر دیئے گئے، 2050تک تک 1600 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پائیدار ترقی کے ساتھ برآمدات میں اضافے کا ہدف مقرر کردیا گیا۔
کلائیمٹ خوشحالی پلان کے مطابق کاربن مارکیٹ سے آمدن بڑھانے کا ہدف مقررکردیا گیا، دوہزار پچاس تک سولہ سو ارب ڈالر سرمایہ کاری کی ضروریات کا تخمینہ ہے ، جبکہ 65 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 2032 تک سرمایہ کاری 566 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی کر دی گئی۔
گرین اکنامک زونز کے قیام سے ماحول دوست صنعتوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ 2030 تک سالانہ 200 ملین ٹن کاربن اخراج کے برابر کاربن کریڈٹس پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ جبکہ اس دوران ساٹھ فیصد صاف توانائی کی پیداوار کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے ۔ 2040 تک 95 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیدا کرنے جبکہ 2035 تک چودہ ہزارمیگاواٹ فوسل فیول پاور پلانٹس کومرحلہ وارختم یا تبدیل کرنے کا ہدف ہے۔ پاکستان بھر میں سو فیصد بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا ہدف مقرر ہے۔ 2035 تک تمام سرکاری سیکنڈری اسکولزمیں روف ٹاپ سولرسسٹمز نصب کیے جائیں گے۔
