امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جلد مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلایا جا رہا ہے، جہاں اسے گزشتہ تقریباً 10 ماہ سے تعینات رکھا گیا تھا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس بحری بیڑے کو مرمت اور تکنیکی معائنے کے لیے خطے سے باہر منتقل کیا جائے گا، تاہم اس فیصلے کے خطے میں امریکی عسکری موجودگی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
دوسری جانب اس صورتحال نے ایک اور امریکی طیارہ بردار بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی خطے میں ممکنہ تعیناتی یا کردار سے متعلق بھی سوالات کو جنم دیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی واضح حکومتی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس وقت میں امریکی بحری بیڑے کی واپسی خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی کی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتی ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید وضاحت متوقع ہے۔
