امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ذاتی ملاقاتوں کو اہمیت دیتے ہیں، تاہم اب ایران کے ساتھ مذاکرات صرف ٹیلی فون کے ذریعے کیے جائیں گے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بات انہوں نے وائٹ ہاؤس میں آرٹیمس دوم مشن پر جانے والے خلابازوں سے ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہر نئی تجویز یا دستاویز پر بات چیت کے لیے بار بار طویل اور مہنگے سفر کرنا عملی طور پر ممکن نہیں رہا، اس لیے اب ایران کے ساتھ آئندہ رابطے فون کالز کے ذریعے ہی ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ براہِ راست ملاقات کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ طویل سفر کے بعد ایسی دستاویز سامنے آتی ہے جس پر عمل ممکن نہیں ہوتا، جس سے وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران نے کچھ پیش رفت کی ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایران امریکا کی توقعات کے مطابق آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے یہ لازمی شرط ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے کی ضمانت دی جائے، بصورت دیگر کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی کو بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کئی ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے اور اب اسے ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔
