بھارت کی ایران میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کی حامل چابہار بندرگاہ پر سرمایہ کاری شدید خطرے میں پڑ گئی ہے، کیونکہ امریکا کی جانب سے دی گئی پابندیوں میں رعایت 26 اپریل 2026ء کو ختم ہو چکی ہے اور اس کی بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے نہایت اہم تجارتی اور اسٹریٹجک منصوبہ رہی ہے، جس کے ذریعے وہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک براہِ راست رسائی حاصل کرتا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اس منصوبے پر اب تک تقریباً 120 ملین ڈالرز خرچ کر چکا ہے، تاہم امریکا کی ایران کے خلاف سخت پابندیوں اور “زیادہ دباؤ” کی پالیسی نے اس منصوبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
مزید برآں، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً سمندری راستوں پر سیکیورٹی خدشات، اس منصوبے کی عملداری کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھارت کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں: یا تو وہ وقتی طور پر منصوبہ معطل کر کے حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کرے، یا مکمل طور پر اس سے دستبردار ہو جائے۔ ایک ممکنہ آپشن یہ بھی زیر غور ہے کہ بندرگاہ کی انتظامی ذمہ داری کسی ایرانی ادارے کو منتقل کر دی جائے تاکہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کی گنجائش برقرار رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور امریکی دباؤ میں کمی نہ آئی تو یہ منصوبہ بھارت کے لیے ایک مشکل سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک ترجیحات پر منحصر ہوگا۔
