ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنائی نے ایرانی فوج کو جنگی کارروائیاں جاری رکھنے اور دشمنوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم لیڈر نے فوج کے کمانڈر Ali Abdollahi سے ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی قیادت کو جنگی آپریشنز جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے دشمن قوتوں کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کی ہدایت کی۔
میجر جنرل علی عبداللہی نے اس موقع پر کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کے پاس مکمل منصوبہ بندی موجود ہے اور مسلح افواج ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں خطے کے بعض ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی افواج کے ساتھ تعاون سے گریز کریں۔
ترجمان نے کہا کہ جو بھی ملک ایران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا تعاون میں شامل ہوگا، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی فوج کے مطابق امریکا کا ساتھ دینے والے ممالک کو Strait of Hormuz سے گزرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
