امریکہ اسرائیل کے اندر مستقل فوجی دستوں کی تعیناتی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی حکمتِ عملی اور موجودگی میں ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق سینیئر سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ Israel میں پہلے سے موجود امریکی افواج کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ ان کی موجودگی مزید مضبوط بنانے پر غور جاری ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مختلف فوجی منصوبوں اور ممکنہ مستقل انتظامات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں جدید فضائی دفاعی نظام، امریکی لڑاکا طیاروں کے دستوں کی مستقل تعیناتی اور اضافی فوجی و رسدی سہولیات شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں خطے کا نیا امریکی فوجی اڈہ اسرائیل کے اندر قائم کیے جانے کا امکان بھی زیر غور ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن، علاقائی سلامتی اور ایران سمیت کئی ممالک کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
