لاہور: محکمہ موسمیات نے جون سمیت آئندہ تین ماہ کے موسمی رجحانات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں اوسط 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو معمول سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا۔
پنجاب میں 29.7 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 19 فیصد زیادہ رہی، تاہم سندھ میں صرف 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے 91 فیصد کم تھی۔ بلوچستان میں بارشوں کی کمی 71 فیصد رہی جبکہ گلگت بلتستان میں بارشیں معمول سے 33 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئیں۔
جون 2026 کے لیے جاری ماہانہ پیش گوئی کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے برابر یا معمول سے کچھ کم رہنے کا امکان ہے۔ سب سے زیادہ کمی شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے بعض ملحقہ علاقوں میں متوقع ہے۔ اس کے برعکس گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں معمول سے کچھ زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس کے برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ بحر ہند کا ڈائپول فی الحال غیر جانبدار مرحلے میں ہے۔ ان موسمی عوامل کے باعث بارشوں کی جغرافیائی تقسیم غیر متوازن رہ سکتی ہے۔
جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا رجحان نمایاں ہو سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
مارچ تا مئی 2026 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 148 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 26 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب میں اس عرصے کے دوران بارشیں 31 فیصد اور سندھ میں 106 فیصد زیادہ رہیں، تاہم آئندہ جون تا اگست کے عرصے میں صورتحال مختلف رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جون تا اگست 2026 کے دوران پنجاب، سندھ، زیریں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے۔ شمالی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، شمالی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بارشیں معمول کے برابر یا اس سے زیادہ رہ سکتی ہیں۔ شمال مشرقی پنجاب میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں میں کمی کے باعث خریف فصلوں کی بوائی اور ابتدائی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے جبکہ آبپاشی کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب شمالی علاقوں میں زیادہ بارشیں، برف پگھلنے کے عمل میں تیزی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جس سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات پیدا ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق شدید گرمی، وقفے وقفے سے بارشوں اور نمی میں اضافے کے باعث ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح درجہ حرارت کے شدید فرق کے نتیجے میں گرد آلود آندھیاں، تیز ہوائیں اور ژالہ باری کے واقعات بھی فصلوں، باغات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
