برطانیہ میں منظم جنسی استحصال کا کیس، 15 مجرموں کو مجموعی طور پر 188 سال قید کی سزا

برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں ایک کم عمر لڑکی کو کئی برس تک جنسی استحصال اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے 15 مجرموں کو عدالت نے مجموعی طور پر 188 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی 2007 سے 2011 کے دوران، جب اس کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان تھی، منظم انداز میں جنسی استحصال کا شکار رہی۔ اگرچہ ابتدائی طور پر ان واقعات کو مکمل طور پر بے نقاب نہیں کیا جا سکا، تاہم 2015 میں پرانے ریکارڈز کا جائزہ لینے کے دوران کیس کے اہم شواہد سامنے آئے جس کے بعد 2016 میں باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بعد میں بیان دیا کہ ایک گروہ اسے بار بار گھر سے لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ اس انکشاف کے بعد تفتیشی اداروں نے کئی سال پرانے شواہد، موبائل فون ریکارڈز، گواہوں کے بیانات اور دیگر دستاویزات کی مدد سے ملزمان کے خلاف مضبوط مقدمات تیار کیے۔

عدالتی کارروائی گزشتہ دو برس سے جاری تھی۔ ملزمان کی بڑی تعداد اور مختلف نوعیت کے الزامات کے باعث مقدمات کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا گیا اور متعدد ٹرائلز کے ذریعے سماعت کی گئی۔ عدالتی عمل کے دوران رپورٹنگ پر پابندی عائد رکھی گئی تاکہ مقدمات کی شفافیت اور منصفانہ سماعت کے اصول برقرار رہیں۔

جون 2026 میں عدالت نے تمام مقدمات کے فیصلے سناتے ہوئے 15 ملزمان کو سنگین جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا۔ عدالت نے مختلف ملزمان کو 8 سے 17 سال تک قید کی سزائیں سنائیں جبکہ مجموعی سزا 188 سال بنتی ہے۔

فیصلے کے بعد متاثرہ خاتون نے کہا کہ ان واقعات نے ان کے بچپن اور نوجوانی کو شدید متاثر کیا اور یہ زخم پوری زندگی ان کے ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے انصاف کی فراہمی پر تفتیشی اداروں اور عدالتی نظام کا شکریہ ادا کیا۔

ویسٹ یارکشائر پولیس کی سینئر تفتیشی افسر وکی گرین بینک نے کہا کہ متاثرہ خاتون نے غیر معمولی جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال ناقابل قبول جرم ہے اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں قرار دیا کہ ملزمان نے ایک کمزور اور کم عمر لڑکی کا منظم انداز میں استحصال کیا اور اس کے اعتماد اور کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ جج نے کہا کہ متاثرہ بچی کو وہ تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا جس کی اسے ضرورت تھی، جبکہ ملزمان نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے اس کی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے