سعودی عرب کا امریکا ایران معاہدے کا خیرمقدم، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کی تعریف

Saudi Arabia welcomes formation of Palestinian National Committee to manage Gaza

سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے ابتدائی مفاہمتی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور آئندہ 60 روز کے دوران تفصیلی مذاکرات شروع کرنے کے فیصلے کو مثبت قدم سمجھتی ہے۔ بیان کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی بنیاد بن سکے۔

سعودی عرب نے اس پیش رفت میں پاکستان اور قطر کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم سفارتی کوششیں کیں۔ وزارتِ خارجہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران نے بھی ان ثالثی کوششوں کا مثبت جواب دیا، جس کے نتیجے میں مفاہمتی عمل آگے بڑھ سکا۔

بیان میں آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ میں امن و استحکام اور جہاز رانی کی مکمل آزادی کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔ سعودی عرب نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں 28 فروری سے قبل کی معمول کی صورتحال کے مطابق بحال کی جائیں تاکہ عالمی منڈیوں میں اعتماد برقرار رہے۔

سعودی حکومت نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور ایک مستقل معاہدہ وجود میں آئے گا جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ علاقائی ممالک کے سلامتی مفادات کا تحفظ اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کا راستہ ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے