اگر 2018 کی حکومت قانونی تھی تو موجودہ حکومت بھی قانونی ہے،بات نکلی تو دور تک جائے گی،وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اورکہا کہ آج احتجاج کا دن نہیں تھا،لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے چلے گئے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنےخطاب میں کہا اپوزیشن لیڈرکی غیرقانونی حکومت کی ذہنی اختراع پر افسوس ہے،2018 کے الیکشن کی تحقیقات کرالیں کیا جادو گری نہیں ہوئی؟ کیا 2028 کے الیکشن میں ڈبے نہیں بھرے گئے؟دھمکیاں نہیں دی گئیں؟ اگر 2018 والی حکومت قانونی تھی تو یہ بھی قانونی حکومت ہے،بات نکلےگی تو بہت دور تک جائے گی۔

شہبازشریف نےمزیدکہاکہ پاکستان کی یکجہتی اورصوبوں میں ہم آہنگی پر شکر اداکریں،صوبوں پروسائل خرچ ہو رہےہیں سب نےخوشی سےفیصلہ کیا،پنجاب دیگرصوبوں پرگیارہ ارب روپے خرچ کر رہا ہے،پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی ترقی سے ہی ہے۔

وزیراعظم نےکہا اختلافی باتیں چھوڑ کر ایرانی صدر کے دورے کی تیاری کرنی چاہیے،برگن اسٹاک میں سارا دن اور رات گفتگو چلتی رہی،مشترکہ اعلامیہ وہیں تیارہوا،امریکا ایران مذاکرات اگلے 60دن میں مکمل ہوں گے،عالمی میڈیا میں پاکستان کی تصویر آویزاں تھی،یہ عزت اربوں روپےخرچ کرکےبھی حاصل نہیں کر سکتے تھے ۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے