امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کی شکست کے بعد ایران میں مظاہرے کیے گئے۔ تہران میں شہریوں نے انتخابی نتائج کو ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا۔
عالمی خبر رساں اداروں اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مظاہرے امریکی سفارت خانے پر قبضے کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئے۔ اس سلسلے میں تہران کے انقلاب اسکوائر اور سابق امریکی سفارت خانے کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔
مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ اس دوران امریکی اور اسرائیلی پرچم بھی نذرِ آتش کیے گئے۔
مظاہرے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے پتلے اور خاکے بھی پیش کیے گئے۔ مظاہرین نے دونوں رہنماؤں کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایک بڑا پوسٹر بھی جلایا گیا۔ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تصاویر شامل تھیں۔
مزید یہ کہ مظاہرین نے سابق ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں۔ بعض شرکا نے ان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔

