چین میں شادی کرنے والے جوڑوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی سامنے آئی ہے۔ اس صورتِ حال سے ملک میں شرحِ پیدائش مزید گرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ شہری امور نے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال کے پہلے 9 ماہ میں 46 لاکھ 50 ہزار جوڑوں نے شادی رجسٹر کرائی۔
یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 9.8 فیصد کم ہے۔ اس عرصے میں تقریباً 5 لاکھ 4 ہزار کم شادیاں رجسٹر ہوئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ گزشتہ 18 سال کی کم ترین سطح ہے۔ گزشتہ سال شادیوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم، رواں سال دوبارہ نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں 20 لاکھ 80 ہزار جوڑوں نے طلاق کے لیے درخواستیں جمع کرائیں۔
شادیوں میں مسلسل کمی مستقبل میں شرحِ پیدائش کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔ اس سے چین کی آبادی سے متعلق مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین پہلے ہی آبادی میں مسلسل کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بزرگ شہریوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔
ملک کو افرادی قوت میں کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ معاشی دباؤ بھی ان مشکلات میں شامل ہے۔
چینی حکومت نے شادیوں اور خاندانی زندگی کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
ان میں بچوں کی پرورش کے لیے مالی امداد بھی شامل ہے۔ حکومت نے ٹیکس میں رعایتیں دینے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
تاہم، ان کوششوں کے باوجود شادیوں کی تعداد میں کمی جاری ہے۔ اس صورتِ حال نے شرحِ پیدائش کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

