سعودی عرب اور اقوام متحدہ نے انسدادِ بدعنوانی کے شعبے میں تعاون کا نیا معاہدہ کیا ہے۔ اس کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور ادارہ جاتی صلاحیتیں بہتر بنانا ہے۔
العربیہ کے مطابق یہ معاہدہ 2027ء سے 2029ء کے عرصے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مختلف تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔
ان پروگراموں کا مقصد بدعنوانی کی روک تھام اور اس کے خاتمے کی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
معاہدے پر ویانا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں دستخط کیے گئے۔ سعودی عرب کی جانب سے کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی ’’نزاہت‘‘ کے سربراہ مازن الکہموس نے دستخط کیے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے ڈاکٹر مونیکا جوما نے معاہدے پر دستخط کیے۔ وہ ویانا میں اقوام متحدہ کے دفتر کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد شفافیت کا تحفظ اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔ اس کے لیے متعلقہ اداروں کی صلاحیتیں بڑھائی جائیں گی۔
معاہدے کے تحت مخصوص پروگراموں اور سرگرمیوں پر عمل درآمد ہوگا۔ ان اقدامات کے ذریعے دونوں فریق مشترکہ تعاون کو فروغ دیں گے۔
مزید یہ کہ انسدادِ بدعنوانی سے متعلق شعبوں میں تربیت اور ادارہ جاتی استعداد بہتر بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو آگے بڑھائے گا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب اور اقوام متحدہ کی اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
اس شراکت داری کی بنیاد 2018ء میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت ہے۔ اس میں سعودی عرب کی نمائندگی نزاہت کرتی ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی نمائندگی اقوام متحدہ کا دفتر برائے منشیات و جرائم کرتا ہے۔

