حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کا غزہ کو ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق

حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کا غزہ کو ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق

قاہرہ — فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر سیاسی گروپوں نے غزہ کی انتظامی ذمہ داری ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ قاہرہ میں منعقدہ فلسطینی تنظیموں کے اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی کی بحالی ہے۔

اجلاس کے بعد حماس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ملاقات قومی مکالمے کے ایک جامع عمل کی تیاریوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد فلسطینی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا اور غزہ کی تعمیر نو اور انتظامی امور کو شفاف انداز میں چلانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ سیزفائر کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود غزہ میں صورتحال بدستور سنگین ہے، خوراک اور پانی کی قلت برقرار ہے جبکہ اسرائیلی رکاوٹوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں مشکلات درپیش ہیں۔

بین الاقوامی اداروں کے مطابق رفاہ بارڈر کے بند ہونے سے ہزاروں زخمی اور بیمار فلسطینی طبی امداد کے منتظر ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) سمیت 41 بین الاقوامی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو دانستہ طور پر روک رہا ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہی ہے، لیکن اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، جسے روکنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے