سعودی مجلسِ وزراء نے عراق کی سرزمین سے سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ کابینہ نے عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والی ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
یہ اجلاس جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، داخلی سلامتی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مسلح افواج کے کردار کو سراہا گیا جنہوں نے حالیہ حملوں اور علاقائی خطرات کے مقابلے میں مملکت کے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنایا۔
کابینہ نے اس موقع پر توانائی کے بعض مراکز پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے فوری اور مؤثر اقدامات کو بھی سراہا، جس کے نتیجے میں توانائی کے نظام کی بحالی اور عالمی منڈیوں کو مسلسل سپلائی یقینی بنائی گئی۔
اجلاس میں سائنسی اور تکنیکی پیش رفت کو بھی نمایاں کیا گیا، خصوصاً مقامی ماہرین کے تیار کردہ ’’شمس‘‘ سیٹلائٹ کی کامیاب لانچنگ کو اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں منعقد ہونے والے عمرہ و زیارت فورم کے مثبت نتائج اور مختلف بین الاقوامی معاہدوں کو بھی سراہا گیا۔
مزید برآں کابینہ نے ماحولیاتی اقدامات، شجرکاری کے منصوبوں اور سعودی گرین انیشیٹو کے تحت ایک ملین ہیکٹر زمین کی بحالی سمیت دیگر کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب کے آٹھ شہروں نے 2026 کے اسمارٹ سٹی انڈیکس میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے جو ملک میں ترقیاتی رفتار اور معیارِ زندگی میں بہتری کا عکاس ہے۔
آخر میں کابینہ نے انسدادِ منی لانڈرنگ کے نظام میں ترمیم، تاریخی جدہ منصوبے کی مدت میں دو سال کی توسیع اور حج سیزن کے دوران زندہ مویشیوں کی درآمد پر عائد ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
