فرانس نے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی نمائش Eurosatory میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے، جسے یورپی دفاعی اور سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی حکومت نے اپنے فیصلے سے اسرائیلی وزارت دفاع کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ پابندی کے نتیجے میں اسرائیلی دفاعی کمپنیوں اور سرکاری نمائندوں کی نمائش میں شرکت محدود یا معطل ہو سکتی ہے۔
یورو ساٹوری دنیا کی اہم ترین دفاعی اور سکیورٹی نمائشوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں مختلف ممالک کی حکومتیں، فوجی ادارے اور دفاعی صنعت سے وابستہ کمپنیاں جدید ہتھیاروں، عسکری ٹیکنالوجی اور سکیورٹی نظاموں کی نمائش کرتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فرانسیسی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً اسرائیل کی علاقائی فوجی کارروائیوں، پر یورپی ممالک کے اندر سیاسی اور سفارتی بحث میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ اس اقدام کو فرانس اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم فرانسیسی حکام کی جانب سے پابندی کی مکمل وجوہات اور اس کے دائرہ کار سے متعلق مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے بھی اس فیصلے پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
