غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اکتوبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فائرنگ اور حملوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ تازہ حملے میں مزید تین افراد شہید ہوئے ہیں۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ غزہ شہر کی مرکزی عمر المختار اسٹریٹ پر ایک اسرائیلی حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ حملے کے بعد جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1,008 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں اس کے چار فوجی مارے گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیوں کا مقصد حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے ممکنہ حملوں کو روکنا ہے، جبکہ حماس اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں سے متعلق تفصیلات شاذ و نادر ہی جاری کرتی ہے۔
ادھر غزہ کے مستقبل اور جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے انخلاء جیسے نکات شامل ہیں، تاہم ان پر پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔
ذرائع کے مطابق غزہ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی امن ایلچی نے قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں کے ذریعے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔ حماس اور دیگر گروپوں کی جانب سے پیش کردہ روڈ میپ تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد ایک نظرثانی شدہ دستاویز بھی فراہم کی گئی ہے، جس میں بعض تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ نئی دستاویز کا مطالعہ جاری ہے۔
اس دوران اسرائیلی افواج اب بھی غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر موجود ہیں، جبکہ تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کی اکثریت بار بار نقل مکانی کے بعد ساحلی علاقوں کی محدود پٹی میں خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انسانی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی نے غزہ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
