حنیف عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 80 پاور پلانٹ 23 مارچ تک پاکستان ریلوے میں شامل ہو جائیں گے، پرائیویٹائز کی گئی پانچ ٹرینوں سے تین ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہے جبکہ دیگر ٹرینوں کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام ایکسپریس کے تین ریک آ چکے ہیں جبکہ قراقرم ایکسپریس، ملت ایکسپریس اور دیگر ٹرینوں کو جون 2026 تک ری فربش کر دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے اپنی تاریخ میں پہلی بار فریٹ سیکٹر سے 41 ارب روپے کی آمدن حاصل کی ہے، دستیاب تمام رولنگ سٹاک کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا، یہاں تک کہ بندرگاہوں پر بھی سامان کی ترسیل کے لیے مسلسل کام کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ایم ایل ون، ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری منصوبے پاکستان ریلوے کے لیے ناگزیر ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ایم ایل ون منصوبے پر بات چیت جاری ہے اور جلد وزیراعظم سے اس کا افتتاح کرایا جائے گا۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے روہڑی سے کراچی کا سفر تقریباً پانچ گھنٹے کم ہو جائے گا جبکہ ایم ایل ٹو میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار چاروں صوبوں میں آٹھ برانچ ریلوے روٹس تعمیر کیے جائیں گے اور اورنج ٹرین سروس دیہی علاقوں تک بھی پہنچائی جائے گی، پیپلز ٹرین منصوبے کے لیے بلوچستان حکومت نے فنڈز فراہم کیے ہیں جبکہ سندھ کے دو نئے ریلوے روٹس پر جلد دستخط ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ روہڑی جنکشن کو جدید خطوط پر ازسرنو تعمیر کیا جائے گا، جبکہ راولپنڈی میں جدید گارڈ روم اور ریسٹ ایریا مکمل کر لیا گیا ہے، اسی طرز کے سٹیٹ آف دی آرٹ گارڈ روم خانیوال، کوٹری، روہڑی، لاہور اور پشاور میں بھی قائم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کاہنہ جیسے افسوسناک واقعات کے انتظار کے بجائے بوسیدہ ریلوے کوارٹرز کی ازسرنو تعمیر کی جا رہی ہے۔ ریلوے ملازمین کے جی پی فنڈز کی 50 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے سکولوں میں معیاری تعلیم اور ریلوے ہسپتالوں کی نجکاری کے بعد 25 لاکھ روپے تک ملازمین کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال ریلوے حادثات میں کمی آئی ہے، ریلوے میں تمام ٹھیکے اوپن آکشن کے ذریعے دیے جا رہے ہیں اور کسی من پسند شخص کو فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بادامی باغ کی آکشن میں 52 ملین روپے کے بجائے ساڑھے چار سو ملین روپے کی آمدن حاصل ہوئی۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے لیے مختص خصوصی سیلون صرف ایک بار استعمال کیا ہے جبکہ اپنے گھر کے کسی ملازم کو بھی ریلوے کی مفت ٹکٹ جاری نہیں کی۔
