ایران نے جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے سے متعلق امریکہ کی مجوزہ تجویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے ارسال کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان اس تنازع میں ثالثی اور سفارتی رابطوں کا کردار ادا کر رہا ہے، اسی سلسلے میں تہران نے اپنی تجاویز اور مؤقف اسلام آباد کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے میں ابتدائی توجہ جنگ کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن کی بحالی پر مرکوز رکھی گئی ہے۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اس سے قبل بھی مستقل جنگ بندی، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق متعدد تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا چکا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ ایران کے باضابطہ اور حتمی جواب کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے حل کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
