ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی تاریخی "اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” کے تحت اپنی تمام تر سفارتی و دیگر ذمہ داریوں پر عمل درآمد باضابطہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے。 ایرانی حکام نے واشنگٹن پر معاہدے کی خلاف ورزی، وعدہ خلافی اور خطے میں "جارحانہ عسکری اقدامات” کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے ہفتے کے روز اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی فریق کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں مصروف تھا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے کی جانے والی حالیہ عسکری نقل و حرکت اور حملے اس مفاہمت کی براہ راست پامالی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر‘ کے مطابق کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے عملی طور پر تمام تر پاسداری ختم کیے جانے کے بعد تہران نے بھی اسلام آباد یادداشت پر مزید عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
