عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق آئزنکوٹ کو 120 رکنی کنیسٹ کے 67 ارکان کی سفارشات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ تعداد حکومت سازی کے لیے درکار 61 ارکان کی سادہ اکثریت سے زیادہ ہے۔
عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کی تینوں جماعتوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا۔ وہ صدر اسحاق ہرزوگ کو آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کی سفارش کریں گی۔
جوائنٹ لسٹ کے مطابق یہ فیصلہ عوامی مطالبے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اتحاد کا مقصد بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی دوبارہ اقتدار میں واپسی روکنا ہے۔
اتحاد نے کہا کہ آئزنکوٹ کی حمایت سے نیتن یاہو کے مقابلے میں ان کی برتری مزید واضح ہوگی۔ اس اقدام سے ایسی مشترکہ حکومت کے امکانات بھی کم ہوسکتے ہیں۔ ایسی حکومت میں نیتن یاہو کے اقتدار میں رہنے کا امکان ہوسکتا تھا۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے 5 نومبر کو سیاسی جماعتوں سے مشاورت مکمل کی۔ ان کے مطابق 67 ارکان پر مشتمل جماعتوں نے آئزنکوٹ کی سفارش کی۔ دوسری جانب، 46 ارکان نے نیتن یاہو کو حکومت بنانے کی سفارش کی۔
تاہم، صدر نے واضح کیا کہ سفارشات کی تعداد ہی فیصلہ کن نہیں۔ انہیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ کون سا رہنما واقعی حکومت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صدر ہرزوگ نے مزید مشاورت کا عندیہ دیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اتوار کو کسی رکنِ کنیسٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

