امریکی میڈیا کے مطابق یہ انتخابات کے بعد اوول آفس میں ٹرمپ کی پہلی باضابطہ مصروفیت تھی۔ اس موقع پر انہوں نے اوول آفس اور کابینہ روم کو قومی یادگار قرار دینے کے اعلان پر دستخط کیے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ویٹو کیپ صدر کی میز پر رکھی ہوئی تھی۔ اسے کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے تناظر میں ایک سیاسی اشارہ قرار دیا گیا۔
ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہونے کے باوجود ان کے پاس صدارتی ویٹو کا اختیار موجود ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس سے منظور ہونے والے ایسے بل مسترد کرسکتے ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرتے۔ اس طرح انہوں نے آئندہ قانون سازی میں اپنے آئینی اختیار کے استعمال کا عندیہ دیا ہے۔
ٹرمپ نے 5 نومبر کو ایک صدارتی اعلامیے پر دستخط کیے۔ اس کے تحت اوول آفس، بیرونی اوول آفس اور کابینہ روم کو قومی یادگار قرار دیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان تاریخی مقامات کی حفاظت اور ان کی اہمیت برقرار رکھنا ہے۔ اعلامیے میں مستقبل میں بڑی تبدیلیوں سے پہلے جائزے اور متبادل اقدامات پر غور کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔
تاہم، اس اقدام سے مستقبل کے صدور کی سجاوٹ یا فرنیچر تبدیل کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ اعلامیے میں معمول کی تزئین و آرائش اور حفاظتی تبدیلیوں کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔

