امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے، جس میں سینٹکام کے سربراہ بریڈ کوپر کلیدی کردار ادا کریں گے۔
امریکی ویب سائٹ Axios کی رپورٹ کے مطابق اس بریفنگ میں ایران کے خلاف مختلف عسکری آپشنز زیر غور آئیں گے، جن میں محدود مگر شدید نوعیت کے حملوں کی ایک "مختصر اور طاقتور” سیریز شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ان ممکنہ حملوں کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر آپشنز میں آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنا اور ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کو قبضے میں لینے کے لیے خصوصی فورسز کی تعیناتی شامل ہو سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، خصوصاً تیل کی ترسیل، کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے ان منصوبوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
