واشنگٹن: امریکہ میں ایک وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے 39 ممالک کے تارکین وطن کو نشانہ بنانے والی امیگریشن پالیسیوں کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ کے چیف ڈسٹرکٹ جج جان میک کونل نے قرار دیا کہ امریکی شہریت و امیگریشن سروس (USCIS) کی جانب سے اپنائی گئی پالیسیاں قانونی اختیار سے تجاوز تھیں، جن کے باعث درجنوں افریقی، ایشیائی، لاطینی امریکی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے افراد پناہ، ورک پرمٹ، گرین کارڈ اور شہریت کی درخواستوں کے فیصلوں سے محروم ہو گئے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان پالیسیوں کے تحت متاثرہ افراد کو "غیر معینہ قانونی پابندی” میں ڈال دیا گیا تھا، حالانکہ انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے تھے۔ جج نے لکھا کہ ان افراد کے ساتھ امتیازی سلوک صرف ان کے پیدائشی ممالک کی بنیاد پر کیا گیا، جو امریکی قوانین کے منافی ہے۔
یہ مقدمہ تارکین وطن کی تنظیموں اور مزدور یونینوں کے اتحاد نے دائر کیا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان پالیسیوں نے ہزاروں افراد کی امیگریشن درخواستوں کو بلاجواز روک دیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ USCIS نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر قانونی جواز کے درخواستوں پر کارروائی روک دی تھی۔ جج نے یہ بھی واضح کیا کہ ایجنسی کے اقدامات کسی بھی قانونی یا ریگولیٹری اختیار کے تحت نہیں آتے۔
