ٹرمپ کے آنے پر کچھ لوگوں نے بگلیں بجائیں،سیاست کو قومی سلامتی سے دور رکھا جائے:پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر جنرل ریٹائرڈ عبد القیوم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی خوارج اور خراسان کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیئے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دے۔ ٹرمپ کے آنے پر کچھ لوگوں نے بگلیں بجائیں کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا، بہتر ہے سیاست کو قومی سلامتی سے دور رکھا جائے۔امریکہ ایک طرف قرارداد منظور کرتا ہے کہ ایک شخص کو رہا کیا جائے یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، دوسری جانب خود مہاجرین کو ایسی جگہ بند کرتا ہے جہاں کوئی قانون ہی نہیں ہے ۔۔


راولپنڈی میں جنرل فیض علی چشتی اور لفٹیننٹ جنرل کمال اکبر مرحوم کے تعزیتی ریفرنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبد القیوم کا مزید کہنا تھا کہ آج میڈیا سے گفتگو میں بنیادی ایشو دہشتگردی پے

انہوں نے کہا دوسری ڈویلپمنٹ کانگریس کی ہے جس میں ٹرمپ نے پاکستان کا ذکر کیا۔بنوں میں رمضان المبارک میں واردات ہوئی جو لرزہ خیز بات ہے، اس میں کوئی شک نہیں اس سب کے پیچھے وہ قوتیں ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتیں، ہم نے دہشت گردوں کو چن چن کر ختم کر دیا تھا مختلف آپریشن کئے گئے،پھر بد قسمتی سے ہمارے کچھ غلط فیصلے ہوگئے۔

تحریک طالبان پاکستان والے اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکے کہ ان کا خیال کیا گیا، افغان ہناہ گزینوں نے یہاں سر اٹھانا شروع کر دیا، ہم افغانستان کیلئے ہمشیہ نرم گوشہ رکھتے ہیں، جب امریکن نکل گئے تو افغانستان نے الخوارج کیساتھ ہمدردیاں سمیٹیں۔

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا بنوں میں جو حملہ ہؤا اس میں راکٹ لانچر استعمال کئے گئے جو ٹینک تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اس قسم کی جنگوں سے لڑنا پوری قوم کا فرض بنتا ہے، کے پی اور بلوچستان میں گورنس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے یہ جو گاڑیاں بارود کی تھیں وہ کہیں نہ کہیں سے چلی ہونگی اس کو چیک کرنا کس کی زمہ داری ہے،

ملک کے اندر حالات بہتر نہ ہوں تو پیرا ملٹری کو بلا سکتے ہیں مگر زمہ داری ساری سویلین کی ہے۔ اکوڑہ خٹک میں مسجد پر کس نے حملہ کیا یہ سب خوارج اور خراسان کر رہےہیں۔

انہوں نے امریکی صدر نے پاکستان کا شُکریہ ادا کیا کہ جب بم پھنس گئے تو پاکستان نے ان کا خیال کیا اگر یہ ٹرمپ نے تعریف کی تو ہہ بہت کم ہے ہم تو ہمشیہ ہی دہشتگری میں فرنٹ لائن اتحادی رہے ہیں ہمارے ساتھ ہمدردی امریکہ نے نہیں کی آپ یہاں اتنا اسلحہ چھوڑ کر چلے گئے۔

ان کا کہنا تھا ابھی جب نریندر مودی امریکہ گیا تو فائٹر طیارے دینے کی بات ہوئی آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں آپ چائنا کی بات کرتے ہیں تو انڈیا اس کا کیا کر سکتا ہے امریکہ سے یہ جنگی سازو سامان لے کر کس کیلئے استعمال ہو گا ظاہر ہے چائنا نہیں پاکستان کیلئے استعمال ہو گا۔ چین کے پاس تو وہ جنگی ساز و سامان ہے جو کسی کے پاس نہیں ۔ دنیا کی 53 ٹیکنالوجی میں چین سب سے آگے ہے وہ لڑائی نہیں کرنا چاہتا انڈیا چائنا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔چین سپر پاور ہے حقیقت کا تقاضا یہی ہے کہ افغانستان کو کنٹرول کیا جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے