آسٹریلوی وزیر اعظم کی ہیرو احمد الاحمد سے ہسپتال میں ملاقات، اتحاد اور حوصلے کی علامت قرار دے دیا
سڈنی — آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے سڈنی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آور کو قابو کرنے والے ہیرو احمد الاحمد کی ہسپتال میں عیادت کی اور انہیں آسٹریلیا کے اتحاد، حوصلے اور انسانیت کی روشن مثال قرار دیا۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے احمد الاحمد سے ملاقات کے دوران کہا کہ آپ نے نہایت مشکل اور خطرناک لمحے میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور سے بندوق چھینی اور بے شمار معصوم جانیں بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ احمد الاحمد پورے آسٹریلیا کے ہیرو ہیں اور انہوں نے ثابت کر دیا کہ آسٹریلیا دہشت گردی کے ذریعے تقسیم نہیں ہوگا۔
آسٹریلوی وزیر اعظم نے احمد الاحمد سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے برائی کا مقابلہ انسانیت، ہمدردی اور جرات کے ساتھ کیا، جو آسٹریلوی معاشرے کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے کہا کہ احمد الاحمد آسٹریلیا کے بہترین انسانوں میں سے ہیں، جو عاجزی اور خلوص سے بھرپور ہیں۔
دوسری جانب احمد الاحمد نے عربی زبان میں جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے دنیا بھر سے آنے والی دعاؤں اور نیک تمناؤں پر خیرخواہوں کا شکریہ ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق احمد الاحمد کے علاج اور مدد کے لیے اب تک 19 لاکھ آسٹریلوی ڈالر سے زائد رقم جمع کی جا چکی ہے، جس پر عوامی سطح پر بھرپور یکجہتی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
وزیر اعظم کے مطابق احمد الاحمد پیشے کے اعتبار سے پھلوں کی دکان کے مالک ہیں اور بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے کے وقت وہ محض اتفاقاً وہاں موجود تھے۔ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ کافی پینے کے لیے اس علاقے میں گئے تھے کہ اچانک حملہ ہوا، جس پر انہوں نے انسانی فریضہ سمجھتے ہوئے مداخلت کی۔
احمد الاحمد کے والد محمد فتح الاحمد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے کسی ذاتی مفاد کے تحت نہیں بلکہ اپنے جذبات، ضمیر اور انسانیت کے تقاضوں کے مطابق حملہ آور کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق احمد نے وہی کیا جو ہر زندہ ضمیر انسان ایسے موقع پر کرنا چاہے گا۔
واقعے کے بعد آسٹریلیا بھر میں احمد الاحمد کو ایک قومی ہیرو کے طور پر سراہا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی اور سماجی حلقوں نے ان کے کردار کو دہشت گردی کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور اتحاد کی علامت قرار دیا ہے۔