پاکستانی فلم اور موسیقی کی دنیا کے نامور گلوکار، اداکار، ہدایتکار اور فلم ساز عنایت حسین بھٹی کو دنیا سے رخصت ہوئے 27 برس بیت گئے، لیکن ان کی دلکش آواز اور لازوال فن آج بھی شائقین موسیقی کے دلوں میں زندہ ہے۔
عنایت حسین بھٹی کا شمار پاکستان کے ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی منفرد آواز، جاندار اندازِ گائیکی اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے ذریعے فلمی صنعت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ انہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستانی فلم انڈسٹری، خصوصاً لالی وڈ، پر اپنی فنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور بے شمار یادگار گیتوں اور کرداروں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔
1953 میں ریلیز ہونے والی فلم "شہری بابو” میں فقیر سائیں کے کردار اور مقبول گیت "بھاگاں والا” نے انہیں غیر معمولی شہرت دلائی۔ اس فلم کے بعد انہوں نے کامیابی کی ایک طویل داستان رقم کی اور موسیقی کی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی۔
عنایت حسین بھٹی صرف ایک کامیاب گلوکار ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اداکاری، ہدایت کاری اور فلم سازی کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ اپنے فنی کیریئر کے دوران انہوں نے اردو اور پنجابی زبان کی 150 سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں "چن مکھنا”، "سجن پیارا” اور متعدد دیگر کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
ان کی گائیکی میں لوک موسیقی کی مٹھاس، جذبات کی گہرائی اور آواز کا منفرد اتار چڑھاؤ انہیں اپنے ہم عصر فنکاروں سے ممتاز بناتا تھا۔ ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔
فن اور ثقافت کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں عنایت حسین بھٹی کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا جن میں معروف نگار ایوارڈ بھی شامل ہے۔ ان کی فنی خدمات کو پاکستان کی موسیقی اور فلمی تاریخ کا ایک اہم باب تصور کیا جاتا ہے۔
31 مئی 1999 کو عنایت حسین بھٹی اس دنیا سے رخصت ہوگئے، تاہم ان کی آواز، گیت اور فنی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کے مداح اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات ہر سال ان کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں اور پاکستانی موسیقی و فلم کے لیے ان کی خدمات کو یاد کرتی ہیں۔
عنایت حسین بھٹی کا نام ان فنکاروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت، صلاحیت اور لگن سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا فنی سرمایہ چھوڑا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
