اسلام آباد: پاکستان کی معیشت نے بحالی کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ مالی سال کی تیسری سہ ماہی (Q3) کے دوران ملکی معیشت نے 4 فیصد کی شرح نمو حاصل کی، جو معاشی سرگرمیوں میں بہتری، صنعتی پیداوار میں اضافے اور کاروباری اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں درپیش مالی اور معاشی چیلنجز کے بعد یہ شرح نمو ملک کی اقتصادی سمت میں مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے مالیاتی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں نے مجموعی اقتصادی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا۔ زرعی شعبے میں پیداوار میں بہتری، صنعتی سرگرمیوں کے پھیلاؤ اور خدمات کے شعبے میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ نے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو کو مستحکم بنانے میں مدد دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح نمو میں یہ اضافہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور اقتصادی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر معاشی اصلاحات اور استحکام کی موجودہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔
حکومتی حلقوں نے 4 فیصد شرح نمو کو معاشی بحالی کی جانب ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی میں کمی، مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکام کے مطابق اقتصادی اشاریوں میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت خوش آئند ہے، تاہم پائیدار ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کا فروغ اور پیداواری صلاحیت میں بہتری ضروری ہوگی تاکہ معاشی ترقی کے فوائد عوام تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔
